سحر خیزی
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - علی الصباح یا منہ اندھیرے اٹھنا۔ "اقبال لذت خواب سحر کا نہیں سحر خیزی کا لذت جو تھا۔" ( ١٩٨٧ء، صحیفہ، اقبال نمبر، ١٠٣ )
اشتقاق
عربی اور فارسی سے ماخوذ مرکب 'سحر خیز' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٣٥ء سے "بال جبریل" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - علی الصباح یا منہ اندھیرے اٹھنا۔ "اقبال لذت خواب سحر کا نہیں سحر خیزی کا لذت جو تھا۔" ( ١٩٨٧ء، صحیفہ، اقبال نمبر، ١٠٣ )
جنس: مؤنث